بِسْـــــــــــــــــــــــمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
السَّــــــــلاَم عَلَيــْـــــــكُم وَرَحْمَــــــــــةُاللهِ وَبَرَكـَـــــــــاتُه
قرآن کریم مسلمانوں کی نہایت معتبر اور مقدس کتاب ہے ، کسی بھی مکتبہ فکر سے یہ توقع کرنا عبث ہے کہ وہ قرآن کو جان بوجھ کر گرا دے پھینک دے ، اور جو یہ توہین و تحقیر کرے گا تو وہ کھلا کافر ہی ہوگا ۔
کیونکہ بسا اوقات دانستہ اس مقدس کتاب کی توہین آدمی کو کفرتک پہنچا سکتی ہے ۔ لہٰذا ہر مسلمان کو لائق ہے کہ قرآن کو تھامنے میں بھرپور احتیاط برتے ، قرآن کریم کسی سے لینے یا کسی کو دینے میں اضافی احتیاط سے کام لے ۔
عمومًا ہماری لاپرواہی ، دھوکے اور بھول سے قرآن شریف ہاتھ سے چھوٹ جائے یا الماری وغیرہ میں رکھتے وقت گر جائے تو اس پر کوئی گناہ یا کفارہ نہیں ، کیونکہ اللہ رب العزت کے ہاں ابنِ آدم کے بھول چوک سے کیے گئے کام معاف ہیں ۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:
إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ، وَالنِّسْيَانَ، وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ
( سنن ابن ماجه رقم 2045 صحیح بالشواہد )
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالی نے میری امت سے (انجانے میں ہونے والی ) غلطی ، بھول چوک اور زورزبردستی کے نتیجہ میں ہونے والے خلاف شرع کاموں کو معاف کردیاہے۔
لہٰذا اس حدیث کی رو سے اگر قرآن کریم کا گرنا بھول کی زد میں آتا ہے تو ان شاءاللہ وہ اللہ کے ہاں قابل ماخذہ نہیں ہوگا , نیزقرآن مجید کے گرنے پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرلیا جائے تو بہتر ہے ، اور دل کی تسکین کے لئے اگر کوئی مسکینوں میں اپنی حیثیت کے مطابق صدقہ و خیرات کرتا ہے تو یہ بھی مستحسن عمل ہے ، تاہم اس صدقہ و خیرات کو دین کا حکم تصور نا کیا جائے ۔ کسی شرعئی نص سے غیر ارادی طور پر قرآن گر جانے سے کفارہ یا کوئی خاص عمل ثابت نہیں ہے بجز یہ کہ آدمی اللہ سے اپنی لا پرواہی اور بھول چوک پر معافی کا خواستگار ہو ، یہی بندے کی عاجزی ہے کہ وہ دینی شعار پر اونچ نیچ ہو جانے پر فورًا نادم ہو ، اور توبہ ندامت کی علامت ہے ۔
معاشرے کے اکثر طبقوں میں قرآن کریم ہاتھ یا الماری سے گر جانے کی صورت میں خود ساختہ کفارے رواج ہیں ، جیسے کچھ لوگ اس کو تول کر برابر وزن کا آٹا ، چاول خیرات کرتے ہیں اور اس خیرات کو اس کا کفارہ خیال کرتے ہیں یہ ان کی غلط فہمی ہے ، قرآن و سنت سے یہ یا ایسا کوئی عمل ثابت نہیں ہے ۔
وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ
ھٰذٙا مٙا عِنْدِی وٙاللہُ تٙعٙالیٰ اٙعْلٙمْ بِالصّٙوٙاب
وَالسَّــــــــلاَم عَلَيــْـــــــكُم وَرَحْمَــــــــــةُاللهِ وَبَرَكـَـــــــــاتُه
ALQURAN O HADITHS♥➤WITH MRS. ANSARI
اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاح مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِیْقِیْ اِلَّا بِاللّٰہِ
وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ
وَسَلَّمَ
وعلى آله وأصحابه وأتباعه بإحسان إلى يوم الدين۔
ھٰذٙا مٙا عِنْدِی وٙاللہُ تٙعٙالیٰ اٙعْلٙمْ
بِالصّٙوٙاب
Post a Comment