Monday, February 3, 2020

بالوں کی چوٹی بنا کر یا انہیں گوندھ کر نمازپڑھنا



بالوں کی چوٹی بنا کر یا انہیں گوندھ کر نماز نہیں پڑھنی چاہئے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عبداللہ بن حار ث رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور ان کا سر پیچھے سے گوندھا ہوا تھا۔ آپ کھڑے ہوئے اور اس کو کھول دیا۔ جب عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے نماز مکمل کرلی تو آپ کی طرف متوجہ ہو کر کہا: آپ کو کیا ہے میرے سر کے (بالوں کے) بارے میں ؟ تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کہ بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (بالوں کو گوندھنے والے آدمی کے بارے میں) فرماتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا : إنما مثل هٰذا مثل الذى يصلي وهو مكتوف ”یہ تو اس آدمی کی طرح لگ رہا ہے جسے باندھا گیا ہو۔“
[البخاري : 809، 810صحيح مسلم : 492]
وضاحت : 👈 اس روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض علماء نے كف الشوب ”کپڑا لپیٹنے“ سے ممانعت والی حدیث [البخاري : 809، 810 ومسلم : 490] سے یہ استدلال کیا ہے کہ آستینیں چڑھا کر نماز نہیں پڑھنی چاہئے کیونکہ اس سے كف الشوب لازم آتا ہے۔
❀ احادیث مبارکہ میں نماز میں کپڑوں اور بالوں کو فولڈ کرنے سے الگ طور سے بھی منع کیا گیا ہے، فرمانِ نبوی ہے:
عن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "أُمِرْنَا أن نسجد على سبعة أعظم، ولا نكف ثوبا ولا شعرا"،
متفق عليه
کہ ’’ہمیں سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ بھی کہ کپڑوں اور بالوں کو جمع نہ کریں (یعنی نہ باندھیں)!‘‘
امام ابن حجر﷫ نے فتح الباری میں وضاحت فرمائی ہے کہ یہ حکم صرف سجدہ کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ پوری نماز کیلئے ہے
🌏 بالوں کے جوڑے میں نماز ، فتاوی میں
❀ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح مسلم میں دوران نماز با لوں کا جو ڑا بنا نے کے منع ہو نے پر ایک با ب قا ئم کیا ہے پھر چند ایک احا دیث بھی مذکو رہ ہیں چنانچہ ابن عبا س علیہ السلام کا بیا ن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا
عن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "أُمِرْنَا أن نسجد على سبعة أعظم، ولا نكف ثوبا ولا شعرا"،
متفق عليه
"مجھے سا ت اعضا ء پر سجدہ کر نے کا حکم دیا گیا ہے نیز مجھے اس با ت سے بھی منع کیا گیا ہے کہ میں نما ز میں اپنے کپڑوں کو سمیٹوں یا اپنے با لو ں کو اکٹھا کرو ں ۔(حدیث 490)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ بُکَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ کُرَيْبًا مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَأَی عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَامَ وَرَائَهُ فَجَعَلَ يَحُلُّهُ وَأَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ مَا لَکَ وَرَأْسِي قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَکْتُوفٌ
محمد بن سلمہ، ابن وہب، عمرو بن حارث، بکیر، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے آزاد کردہ غلام کر یب سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس نے عبداللہ بن حارث کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ان کے سر میں پیچھے کی طرف جوڑا بندھا ہوا تھا۔ عبداللہ بن عباس ان کے پیچھے کھڑے ہو کر ان کا جوڑا کھولنے لگے وہ اس وقت خاموش رہے مگر جب نماز سے فارغ ہوئے تو وہ ابن عباس کے پاس آئے اور پوچھا کہ تم نے میرا جوڑا کیوں کھولا؟ عبداللہ بن عباس نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص بالوں کا جوڑا باندھ کر نماز پڑھے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوں اور وہ نماز پڑھ رہا ہو۔(حدیث نمبر 492)
ان حا دیث سے معلو م ہو ا کہ سر کا جو ڑا بنا کر نما ز پڑ ھنا درست نہیں ہے ۔
فتاویٰ اصحاب الحدیث
جلد 1/صفحہ 476
منتقٰی میں ابی رافع سے حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا ہے کہ کوئی شخص جوڑا باندھ کر نماز پڑھے۔ ابوداؤد میں ہے کہ ابورافع نے حسن بن علی کو لٹیں باندھے دیکھا تو ابورافع نے لٹیں کھول دیں او رکہا کہ حضورؐ کا ارشاد ہے کہ یہ شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہے یہ حکم اگرچہ مردوں کو ہے مگر اس میں عورتیں بھی شامل ہیں لہٰذا عورت کو جوڑا باندھ کر نماز پڑھنی منع ہے۔
فتاویٰ اہلحدیث/ستر کا بیان
جلد1/صفحہ307
عن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "أُمِرْنَا أن نسجد على سبعة أعظم، ولا نكف ثوبا ولا شعرا"،
۱۔ عام طور پر اہل علم نے کپڑے سمیٹنے اور بال سمیٹنے سے مراد نماز اور نماز سے پہلے دونوں کو اس میں داخل کیا ہے اور اس عمل کو مکروہ قرار دیا ہے۔
۲۔ لیکن بعض اہل علم کی رائے ہے کہ یہاں بال اور کپڑے سمیٹنے سے مراد نماز میں ان کا سمیٹنا ہے کیونکہ یہ خشوع وخضوع کے منافی ہے اور انسان کی توجہ نماز اور اللہ سبحانہ وتعالی کی ذات سے کپڑوں اور اس کے بالوں کی طرف لے جاتا ہے لہذا یہ عمل ممنوع ہے لیکن نماز سے پہلے اگر ایسا کر لیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے مثلا کوئی شخص پینٹ فولڈ کر یا آستینیں چڑھا کر نماز پڑھ لے تو کوئی حرج نہیں ہے اور وہ اس ممانعت میں داخل نہیں ہے لیکن اگر کوئی شخص کاٹن کا سوٹ پہن کر نماز کے کھڑا ہوا ہے کہ اور اس کی استری بچانے کے لیے اب سجدے میں جاتے اور اٹھتے وقت اس کو سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ اس روایت کا صحیح محل و مقام ہے اور ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔ یہی معاملہ بالوں کا بھی ہے اور اگر نماز سے پہلے سمیٹ لیے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگر نماز میں سمیٹے مثلا بال سجدے کے دوران ماتھے کے سامنے آ رہے ہوں اور وہ ان کو ہٹانے کی کوشش کرے تو یہ ایسے افعال ہے جو نماز میں رب سبحانہ وتعالی کی یاد سے غفلت کا باعث ہیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصود اصل میں نماز میں اس قسم کے افعال سے روکنا تھا اور نماز سے پہلے یا بعد میں ایسا کرنے سے روکنے کی کوئی وجہ یا علت یا حکمت سمجھ نہیں آتی ہے۔
میرا ذاتی رجحان ان اہل علم کے اس قول کی طرف ہے۔
۳۔ بعض اہل علم نے نماز کے دوران اور نماز کے باہر کی بجائے نماز کے لیے اور نماز کے لیے نہ ہونے کو بنیاد بنایا ہے اور یہ مالکیہ کا معروف موقف ہے۔ یعنی اگر نماز کے لیے بال یا کپڑے اکھٹے کیے ہیں تو ممنوع ہیں، چاہے نماز سے پہلے کیے ہوں یا دوران نماز، اور اگر نماز کے لیے نہیں کیے ہیں بلکہ اپنی عادت و عرف یا کسی اور سبب سے کیے ہیں تو جائز ہے۔
وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ
وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ
وعلى آله وأصحابه وأتباعه بإحسان إلى يوم الدين۔
ھٰذٙا مٙا عِنْدِی وٙاللہُ تٙعٙالیٰ اٙعْلٙمْ بِالصّٙوٙاب
وٙالسَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه

1 comment:

Whatsapp Button works on Mobile Device only

Start typing and press Enter to search